چنئی29جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)تمل ناڈو شہر کے ریلوے اسٹیشن پر ایک خاتون انجینئر کے قتل اور ایک اور عورت کی تصویر سے چھیڑ چھاڑ کے بعد اس کی تصویرکوفیس بک پر پوسٹ کرنے سے دلبرداشتہ خاتون کی خودکشی کرنے کے واقعہ کے کئی دن گزر جانے پر آج ڈی ایم کے سربراہ کروناندھی نے تامل ناڈو پولیس پرشدید حملہ بولااورکہا کہ تمل ناڈوپولیس عام آدمی کی حفاظت میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں محکمہ پولیس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ عام آدمی کو تحفظ مہیا کرائیں اور ایسا نہ کرنے کی وجہ سے میں نے ان کی سخت مذمت کرتا ہوں۔سلیم میں ایک لڑکی کی تصویر سے چھیڑ چھاڑ کر اسے فیس بک پر پوسٹ کرنے کے چلتے لڑکی کے خودکشی کرنے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کروناندھی نے کہاکہ محکمہ پولیس کو کیا یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ صرف اقتدار میں قابض لوگوں اور اپوزیشن پارٹی کے لوگوں کی نگرانی کرنا ہی اس کا کام نہیں ہے۔اس خودکشی معاملے کو لے کر پولیس کو تنقید جھیلنی پڑی تھی کیونکہ شکار کے والدین نے معاملے میں کارروائی نہ کرنے اور رشوت مانگنے کا الزام لگایا تھا۔ڈی ایم کے سربراہ نے مدراس ہائی کورٹ کی طرف سے تمل ناڈو حکومت کو اس مسئلے پر دی گئی ہدایات اور حفاظت کے پہلوؤں سے منسلک تمام دیگر سوال اٹھائے جانے کا بھی ذکرکیا۔